حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو، بلتستان میں نائب امام جمعہ والجماعت علامہ شیخ حسن سروری نے نماز جمعہ کے خطبوں میں سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت و تعلیمات، والدین کے احترام، معاشرتی ذمہ داریوں، جہاد کی اہمیت، اسلامی جمہوریہ ایران کی استقامت اور گلگت بلتستان کے آئینی و عوامی حقوق سمیت اہم دینی، سیاسی اور سماجی مسائل پر گفتگو کی۔
ایامِ شہادت حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے امام زمانہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور تمام مومنین و مومنات کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے علامہ حسن سروری نے کہا کہ سیدۂ کائنات کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے۔ آپؑ نے اپنے کردار اور سیرت سے والدین کے احترام، خدمت، ایثار اور انسانی ہمدردی کا عملی درس دیا۔ بالخصوص رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپؑ کا ادب، احترام اور خدمت والدین کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے بہترین مثال ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو والدین کی اطاعت، احترام اور خدمت کی تلقین کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کے ساتھ والدین کا شکر ادا کرنے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک عبرت آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے والدین کی ناراضگی کے نتائج اور ان کی رضامندی کی اہمیت واضح کی۔ انہوں نے دعائے مشلول کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے والدین کی نافرمانی کے نتیجے میں پریشانی کا شکار ایک نوجوان کو اس دعا کی تعلیم دی اور اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی امید دلائی۔
علامہ حسن سروری نے سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا سے منقول رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، مہمان کی عزت کرے اور ہمیشہ اچھی بات کہے، بصورت دیگر خاموشی اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایمان محض زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کا عملی اظہار انسان کے اخلاق، معاملات اور معاشرتی رویوں میں ہونا چاہیے۔ ایک حقیقی مومن اپنی زبان اور کردار سے دوسروں کو اذیت نہیں پہنچاتا۔
دوسرے خطبے میں انہوں نے جہاد کی اہمیت اور اسلام کی سربلندی و بقا کے حوالے سے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرامین اور سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاد اسلام کے دفاع، عزت و عظمت اور دشمنانِ دین کے مقابلے میں استقامت کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی سیرت اور شہداء کی قربانیاں ہمیں حق کے دفاع، ثابت قدمی اور ایثار کا درس دیتی ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں اور خطے میں ان کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں حق و باطل کی پہچان اور اسلامی اقدار کا تحفظ پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی استقامت کا ذکر کرتے ہوئے علامہ حسن سروری نے ایران کی آٹھ سالہ جنگ کے دوران ایرانی قوم کی قربانیوں اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کے مابین اخوت و یکجہتی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان، دعا، توکل اور قربانی کسی بھی قوم کی کامیابی اور سربلندی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسلامی جمہوریہ ایران کو جنگ اور مذاکرات دونوں محاذوں پر کامیابی عطا فرمائے اور پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ کو عزت، اتحاد اور استحکام نصیب کرے۔
گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور یومِ آزادی
یکم نومبر یومِ آزادی گلگت بلتستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ حسن سروری نے کہا کہ آزادی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، تاہم افسوس کہ گلگت بلتستان کے عوام ابھی تک اس کے حقیقی ثمرات اور مکمل آئینی و سیاسی حقوق سے مستفید نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں، قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت میں گلگت بلتستان کا بنیادی کردار ہے، لیکن یہاں کے عوام کو وہ مکمل آئینی، سیاسی اور قومی حقوق حاصل نہیں جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان سے اپنی وابستگی اور محبت کا ہمیشہ اظہار کیا ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں مختلف ادوار میں محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خطے کی آئینی و انتظامی حیثیت اور عوام کے قومی تشخص کا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق فراہم کیے جائیں گے۔
خطے کے انتظامی اختیارات اور بیرونی مداخلت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کا احترام اپنی جگہ، لیکن اگر کوئی فیصلہ عوام کے بنیادی حقوق، خودمختاری اور مفادات کے خلاف ہو تو اس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مستقبل کے فیصلے یہاں کے عوام کی خواہشات اور مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ہونے چاہئیں اور کسی بیرونی طاقت کو اپنے مفادات کے لیے خطے میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر گلگت بلتستان کو مکمل صوبائی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے تمام آئینی تقاضے پورے کیے جانے چاہئیں۔ عوام پر ٹیکس عائد کرنا یا ان کے وسائل سے محصولات وصول کرنا، لیکن انہیں مکمل آئینی حقوق فراہم نہ کرنا قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر زور
علامہ حسن سروری نے متعلقہ حکام اور ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ جن ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ مختص کیا گیا ہے، ان پر عملی طور پر کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محض اعلانات اور کاغذی کارروائی سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عمل درآمد ضروری ہے۔
انہوں نے صاحبِ ثروت افراد پر بھی زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور وسائل میں ضرورت مندوں کو شریک کریں اور غریبوں، مسکینوں، مستحق خاندانوں اور بے روزگار نوجوانوں کی مدد کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ایامِ شہادت حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے آپؑ کی سیرتِ ایثار و قربانی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیدۂ کائناتؑ نے اپنی زندگی میں ضرورت مندوں، غریبوں اور بھوکوں کی مدد کی اور اپنی ضروریات پر دوسروں کی حاجت کو ترجیح دی۔ ہمیں بھی آپؑ کی سیرت سے درس لیتے ہوئے خصوصاً سردیوں کے موسم میں نادار خاندانوں، بے سہارا افراد اور بنیادی ضروریات سے محروم لوگوں کی خبرگیری کرنی چاہیے۔ ضرورت مندوں کی مدد محض سماجی کام نہیں بلکہ ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
سیاسی اختلافات اور قومی ترقی
پاکستان کی سیاسی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ حسن سروری نے کہا کہ ملک کے سیاست دان ایک دوسرے پر الزامات اور تنقید میں مصروف ہیں، جبکہ عوامی مسائل کے حل اور ملکی ترقی کے لیے عملی اقدامات کم دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے قومی قیادت پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات اور محاذ آرائی سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل، قومی وسائل کے بہتر استعمال اور ملک کی ترقی پر توجہ دے۔
قدرتی وسائل اور بجلی کا بحران
گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے کے وسائل پورے ملک کی تعمیر و ترقی میں استعمال ہوتے ہیں، لیکن مقامی آبادی ان کے ثمرات سے مناسب طور پر مستفید نہیں ہو رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قدرتی ذخائر، تعمیراتی سامان اور دیگر مقامی وسائل کے استعمال میں یہاں کے عوام کے معاشی مفادات اور حقوق کو ترجیح دی جائے۔
سکردو میں بجلی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے متحد ہو کر سنجیدہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں، لیکن گلگت بلتستان کے عوام کو بھی بجلی کی بنیادی سہولت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
انہوں نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر خطے میں بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوامی مسائل حل نہ کیے گئے تو عوام کو اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے اجتماعی اور پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔
خطبات کے اختتام پر علامہ شیخ حسن سروری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کے صدقے تمام مومنین و مومنات کی مشکلات دور فرمائے، بیماروں کو صحت و عافیت، طلبہ و طالبات کو کامیابی، پاکستان کو ترقی و استحکام، گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق اور اسلامی جمہوریہ ایران سمیت پوری امت مسلمہ کو سربلندی و کامیابی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔










آپ کا تبصرہ